Saturday, 7 February 2015

انسان ایک دوسرے سے کوئی زیادہ مختلف نہیں جو غلطی ایک مرد کرتا ہے، دوسرا بھی کرسکتا ہے۔ جب ایک عورت بازار میں دکان لگا کر اپنا جسم بیچ سکتی ہے تو دنیا کی سب عورتیں کر سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن غلط کار انسان نہیں، وہ حالات ہیں جن کی کھیتیوں میں انسان غلطیاں پیدا کرتا ہے اور ان کی فصلیں کاٹتا ہے۔
(اقتباس: سعادت حسن منٹو کی کتاب "لزت سنگ " کے افسانہ "افسانہ نگار اور جنسی مسائل" سے)
کالم: منٹو اور خدا
منٹو میاں، ہم تو ٹھہرے جج، ہمارا تو کام ہی تم جیسے ادبی تخریب کاروں کی گوشمالی کرنا ہے۔
تم کٹہرے میں، ہم کرسی پر، تو ظاہر ہے ہماری تمہاری دشمنی تو سمجھ میں آتی ہے۔ کوئی ملزم منصف کا دوست کیسے ہوسکتا ہے۔ لیکن تم نے تو اپنے قبیلے کے لوگوں کو بھی ناراض کیا۔ فلم پروڈیوسرز بھی تم سے خفا، ادبی نقاد تمہارے خلاف، رُجت پسند تمہارے دشمن، ترقی پسند تم سے بیزار۔
اور تو اور تمہیں لاہور میں نوکری دینے والے مدیر مولانا چراغ حسن حسرت کے بارے میں تم نے اپنا مشہور مضمون ان کی موجودگی میں پڑھا تو انہوں نے فرمایا یہ منٹو کیا بکواس کر رہا ہے۔ اسے چپ کراؤ۔
کیا زندگی میں اتنے دشمن کافی نہیں تھے کہ اپنے خالق سے بھی مقابلہ کرنے بیٹھ گئے وہ کیا کہہ گئے تھے کہ میرے کتبے پر لکھا جائے کہ یہاں منٹو دفن ہے اور ابھی تک سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا۔
وہ تو بھلا ہو تمہارے لواحقین کا جنہوں نے تمہاری بات نہ مانی ورنہ تمہاری قبر کا کتبہ بھی کسی جج کے کٹہرے میں پایا جاتا۔ انہوں نے اچھا کیا کہ غالب کے مصرعے کا حوالہ دیا کہ یہ سعادت حسن منٹو کی قبر ہے جو اب بھی سمجھتا ہے کہ اس کا نام لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرر نہیں تھا۔
غالب کے بہت سارے فوائد ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ باقی لوگوں کی طرح ججوں کو بھی سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہہ رہا ہے۔
منٹو میاں سچی بات یہ ہے کہ تمہاری تحریروں سے ہمارے نئے ملک کو ہی نہیں بلکہ ہمارا قدیم مذہب بھی خطرے میں پڑجاتا تھا۔ تمہارے جانے کے بعد تو ہمارا ایمان ہر وقت خطرے میں رہتا ہے۔ کیا کریں معاملات ہی اتنے نازک ہیں۔
تم تو لکھتے تھے، تمہاری کہانیاں لوگ پڑھتے تھے اس لیے ان کا ایمان خطرے میں پڑتا تھا۔ اب تو ہمارے پاس ایسے ایسے کیس آتے ہیں کہ تمہاری کہانیاں بچوں کی الف لیلیٰ لگتی ہیں۔
بلقیس نامی ایک گنوار عورت ہے نہ پڑھ سکتی ہے نہ لکھ سکتی ہے کھیتوں میں دوسری عورتوں سے جھگڑا ہوا پتہ نہیں کیا کہ بیٹھی، سالوں سے کال کوٹھڑی میں بند ہے۔ اب ہمیں یہ بھی نہیں پتہ کہ اس نے کیا کیا تھا۔ معلوم کریں گے تو ہم بھی اس جرم کے مرتکب ہوں گے جو اس نے کیا تھا۔ اب اس نے کس شانِ کریمی میں کیا گستاخی کی تھی کچھ پتہ نہیں۔ اب دوسروں کے گناہوں کو ثابت کرتے کرتے خود تو گناہ گار نہیں بن سکتے۔ اس لیے بلقیس کے لیے بھی اور ملک خداداد کے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ وہ کال کوٹھڑی میں ہی بند رہے۔
اب بتاؤ کون ہو گا منٹو جو یہ کہانی لکھ پائے گا۔ شکر کرو جوانی میں اس ذلت کی زندگی سے جان چھوٹی۔ امید ہے اب حوضِ کوثر کے کنارے جی بھر کے پی رہے ہو گے اور اپنے خالق کے ساتھ وہی پرانی بحث چھیڑ کر بیٹھے ہوگے کہ بڑا افسانہ نگار کون ہے۔
(اقتباس: محمد حنیف کے کالم "منٹو اور خدا" سے)
آج میں بہت خوش ہوں‘ میری جیب میں پورے چھ سو روپے موجود ہیں جو میں نے مختلف دوستوں سے شرط لگا کے جیتے ہیں‘ مجھے لگا کہ میں تھوڑی سی کوشش اور کروں تو دو ہزار کی ’’دیہاڑی‘‘ آسانی سے لگا سکتا ہوں‘ یہ سوچتے ہی میں نے اپنے اُردو کے لیکچرار دوست فیصل کو فون کرکے آفس بلا لیا اور پرجوش آواز میں کہا ’’اُردو لکھنا پڑھنا جانتے ہو؟‘‘وہ غصے سے مجھے گھورنے لگا‘ میں نے طنزیہ لہجے میں سوال دوبارہ دہرایا‘ وہ غرایا ’’کیا یہی مذاق کرنے کے لیے بلایا ہے؟‘‘ میں نے قہقہہ لگایا ’’نہیں جانی! بس آج تمہاری اردو کا امتحان لینا ہے‘ بولو کتنے کی شرط لگاتے ہو؟‘‘ فیصل نے دانت پیسے ’’شرط لگانا حرام ہے‘‘۔ اب کی بار میں نے اسے گھورا ’’اگر میں ثابت کردوں کہ شرط حرام نہیں تو ؟؟؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں پھیل گئیں’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ کرو ثابت‘‘۔ میں نے اطمینان سے کہا ’’کیا نماز کے لیے وضو شرط نہیں‘ کیا شادی کے لیے نکاح شرط نہیں؟؟؟‘‘ میری دلیل سنتے ہی اُس نے پہلے اپنے بال نوچے‘ پھر میز پر پڑا پیپر ویٹ اٹھا کر میرے سر پر دے مارا لیکن میں چوکنا تھا لہذا اس کا نشانہ خطا گیا۔ مجھے ڈیڑھ گھنٹہ اسے سمجھانے میں لگ گیا کہ شرط لگانے سے کچھ نہیں ہوتا ’’چلو اگر تمہیں شرط منظور نہیں تو شرط کا نام انعام رکھ لیتے ہیں‘‘ کچھ بحث و تمہید کے بعد یہ تجویز فیصل کو پسند آگئی اور مجھے یقین ہوگیا کہ میری جیب میں مزید رقم آنے والی ہے۔ طے پایا کہ اگر فیصل نے اُردو بوجھ لی تو میں اُسے ہزار روپے دوں گا اور اگر وہ ناکام رہا تو اُسے ہزار روپے دینا ہوں گے۔ فیصل کو یقین تھا کہ وہ یہ مقابلہ ہار ہی نہیں سکتا کیونکہ اُردو سے اس کا بڑا پرانا تعلق ہے اور وہ اِس زبان کا ماہر ہے۔ میں نے سرہلایا اور پوچھا ’’کھاتہ ترتیبات‘‘ کسے کہتے ہیں؟ فیصل کا رنگ اُڑ گیا ’’کیا کہا؟ پھر سے کہنا‘‘۔ میں نے اطمینان سے دوبارہ کہا ’’کھاتہ ترتیبات‘‘۔ فیصل سرکھجانے لگا ‘میں مزے سے سیٹی بجارہا تھا‘ اس کی طرف سے جواب میں تاخیر ہوئی تو میں نے اطمینان سے کہا ’’بیٹا اس کا مطلب ہے Account Settings ۔۔۔۔۔۔۔چلواب یہ بتاؤ ’’رازداری رسائی‘‘ کسے کہتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔وہ مزید ہڑبڑا گیا۔۔۔۔۔ ’’یہ کون سی زبان بول رہے ہو؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔میں مسکرایا ’’بیٹا یہ اُردو ہے‘ خالص اُردو‘ اس کا مطلب بھی سن لو‘ اس کا ترجمہ ہے Privacy Settings‘ اب بتاؤ کہ ’’ربط کا اشتراق‘‘ کیا ہوتا ہے؟‘‘ اُس کے پسینے چھوٹ گئے‘ ہکلاکر بولا ’’نہیں پتا‘‘۔ میں نے میز بجایا ’’میرے پیارے اس کا مطلب ہوتا ہے Share link۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ فیصل بے بسی سے اپنی ہتھیلیاں مسلنے لگا۔ میں نے سگریٹ سلگا کر ایک کش لگایا اور آگے کو جھکتے ہوئے پوچھا ’’فیس بک استعمال کرنا جانتے ہو؟‘‘ وہ اچھل پڑا ’’کیا مطلب؟ تم جانتے تو ہو کہ میں چار سال سے فیس بک استعمال کر رہا ہوں‘‘۔ میں نے دھواں اس کے منہ پر پھینکا ’’اچھاتو پھر یہ بتاؤ آخری دفعہ تم نے ’’تجدید کیفیت‘‘ کب کیا تھا؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔فیصل کی آنکھیں پھیل گئیں اور دھاڑ کر بولا ’’میں کوئی تمہاری طرح بے غیرت نہیں‘ میں نے یہ کام کبھی نہیں کیا‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا ’’کون سا کام؟‘‘ وہ گرجا ’’یہی جو تم پوچھ رہے ہو‘‘۔ میں نے قہقہہ لگایا ’’ابے یہ Status Update کی اُردو ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔اچھا یہ بتاؤ تمہارے کتنے ’’پیروکار‘‘ ہیں؟‘‘ یہ سنتے ہی اُس نے مجھے گردن سے دبوچ لیا ’’کیا بکواس کر رہے ہو ‘ میں کوئی پیر بابا ہوں‘ میرے کہاں سے پیروکار آگئے؟؟؟‘‘ میری چیخ نکل گئی‘ میں نے بمشکل اپنی گردن چھڑائی اور دو قدم دور ہٹ کر چلایا ’’کمینے! پیروکار سے مراد ’’Followers ‘‘ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ایک موقع اور دیتا ہوں‘ بتاؤ جب تم فیس بک پر کوئی تصویر لگاتے ہو تو اسے کسی سے ’’منسلک‘‘ کرتے ہو؟۔۔۔۔۔۔ کبھی تمہیں ’’معاونت تختہ‘‘ کی ضرورت پیش آئی؟۔۔۔۔۔۔ تم ’’مجوزہ صفحات‘‘ کھولتے ہو؟۔۔۔۔۔۔۔تم نے کبھی اپنی ’’معلومات کی تجدید‘‘ کی؟۔۔۔۔۔۔کبھی ’’اپنے ’’واقعات زندگی‘‘ کو ’’عوامی‘‘ کرکے ’’پھیلایا؟؟؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔فیصل کے چہرے کے تاثرات عجیب سے ہوگئے تھے‘ یوں لگ رہا تھا جیسے کچھ ہی دیر میں وہ خالق حقیقی سے جاملے گا۔۔۔۔۔۔۔ اس نے میرے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے اپنے ناخن چبانے شروع کر دیے۔ میں نے پراعتماد لہجے میں کہا’’۔۔۔۔۔۔تم ہار گئے ہو۔۔۔نکالو ایک ہزار‘‘۔ اُس نے نفی میں سرہلادیا ’’نہیں۔۔۔پہلے ثابت کرو کہ یہ اُردو کہیں استعمال بھی ہوتی ہے‘‘۔ مجھے پتا تھا کہ وہ یہ سوال ضرور کرے گا لہذا اطمینان سے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھول کر فیصل کے سامنے کر دیا جہاں Tag کی اردو ’’منسلک‘‘ لکھی تھی۔ Support Dashboard کو ’’معاونت تختہ‘‘ لکھا ہوا تھا‘ Recommended Pages کا ترجمہ ’’مجوزہ صفحات‘‘ کیا گیا تھا‘ Life events سے مراد ’’واقعاتِ زندگی‘‘ تھے اور Everyone کی اُردو ’’عوامی‘‘ کی شکل میں دستیاب تھی۔ وہ کچھ دیر ہونقوں کی طرح میری ’’اُردو مارکہ فیس بک‘‘ دیکھتا رہا‘ پھر خاموشی سے پرس نکالا‘ پانچ پانچ سو کے دو نوٹ نکال کر میری ٹیبل پر رکھے‘ اپنے آپ کو ایک عجیب و غریب سائنسی قسم کی گالی دی اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
مجھے اردو سے بہت محبت ہے‘ اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ میں نے پنجابی بھی بولنی ہو تو اُردو میں بولتا ہوں‘ یہی وجہ ہے کہ جب کسی ’’ جانی دشمن‘‘ نے مجھے بتایا کہ فیس بک اب اُردو میں بھی دستیاب ہے تو میرا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ میں نے اسی وقت اُس سے طریقہ پوچھا اور فیس بک کو ’’مشرف بہ اردو‘‘ کر لیا۔میرا خیال تھا کہ اُردو قبول کروانے کے بعد فیس بک سے میری شناسائی میں مزید اضافہ ہوجائے گا لیکن جو کچھ سامنے آیا اسے دیکھ کرنہ صرف ہوش اڑ گئے بلکہ دو سال پہلے کا ایک وقوعہ بھی یاد آگیا جب میں نے غلطی سے موبائل کی اُردو آپشن آن کرلی تھی ‘ جو اردو سامنے آئی وہ لگ بھگ فرانسیسی زبان جیسی تھی‘ مجبوراً اپنے جاننے والے ایک ’’محرر‘‘ کو بلوا کر ترجمہ کروایا اور واپس انگلش کی طرف لوٹ گیا۔ فیس بک کی اُردو دیکھ کر بھی یہی حال ہوا‘ لیکن اندر ہی اندر فخر بھی محسوس ہورہا تھا کہ ماشاء اللہ میں اس مقام تک پہنچ گیا ہوں کہ اب مجھے اردو مشکل اور انگلش آسان لگنے لگی ہے۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ اب تک اردو ہماری قومی زبان تو نہ بن سکی لیکن فیس بک کی زبان ضرور بن گئی ہے تاہم فیس بک والے ’’واجب القتل‘‘ قرار دے دینے چاہئیں جنہوں نے ابھی تک بے شمار الفاظ کا اردو ترجمہ نہیں کیا‘ مثلا ٹائم لائن‘ ای میل‘ پاس ورڈ‘ سرچ انجن‘ پروفائل‘ فیس بک‘ کوکیز‘ ایپلی کیشنز‘ موبائل‘ لاگ اِن اور لاگ آؤٹ جیسے بدیسی الفاظ تاحال یہاں موجود ہیں حالانکہ ان کا ترجمہ انتہائی آسان ہے ‘ میری رائے میں ‘ Facebook کو ’’متشکل کتاب‘‘ ۔۔۔Timeline کو ’’وقت کی لکیر‘‘۔۔۔Email کو ’’برقی چٹھی‘‘۔۔۔Password کو’’لفظی گذرگاہ‘‘۔۔۔Cookies کو’’چھان بورا‘‘ ۔۔۔Application کو ’’عرضی‘‘۔۔۔ Mobile کو’’گشتی‘‘ ۔۔۔Search Engine کو ’’مشینی تلاشی‘‘ ۔۔۔Video کو ’’متحرک تصاویر‘‘۔۔۔ Profile کو ’’شخصی ڈھانچہ‘‘۔۔۔ Log out کو ’’خروج‘‘ اور Login کو ’’دخول‘‘ کردینا چاہیے۔ اردو کی ترویج و ترقی کے لیے انگریزی کو بے لباس کرنا بہت ضروری ہے ‘ یقیناً ایسا کرنے سے ہی ہمارے ہاں یکدم ترقی کے دروازے کھل جائیں گے۔ ہم خود کوئی علمی دریافت کریں نہ کریں‘ دوسروں کے علم کی نقل مارنا بلکہ ’’مت مارنا‘‘ ضرور سیکھ جائیں گے۔
(اقتباس: گل نوخیز اختر کا کالم "اُردو آگئی میدان میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے جمالو" )
"خواب"
چاندنی نے رنگِ شب جب زرد کر ڈالا۔۔۔۔تومیں
ایک ایسے شہر سے گزرا۔۔۔۔جہاں
صرف دیواریں نمایاں تھیں
چھتیں معدوم تھیں
اور گلیوں میں فقط سائے رواں تھے
جسم غائب تھے

(شاعر: احمد ندیم قاسمی)

Saturday, 31 January 2015

خر اب کس کی بات مانوں میں
جو مِلا ، اس نے لاجواب کیا
یوں سمجھ تجھ کہ مضطرب پا کر
میں نے اظہارِ اضطراب کیا
(شاعر: جون ایلیا)
یہ بات کتنی اُداس اور مایوس کر دینے والی بات ہے کہ انسانی دانش اپنی تمام تر معجزنمائی کے باوجود سب سے زیادہ مہیب اور مہلک بیماری یعنی نفرت کا علاج کرنے میں آج تک برُی طرح ناکام رہی ہے۔
(اقتباس: جون ایلیا کے انشائیے "مرض" (نومبر 2007ء، ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ) سے)
اس دور کا سب سے نمایاں رجحان یہ ہے کہ جو تم ہو وہ نظر نہ آؤ. یہ معاشرے کا دباؤ ہے جو ہمیں اس بے معنی اداکاری پر مجبور کرتا ہے۔ ہم باہر سے بہت ثابت و سالم ہشاش بشاس نظر آتے ہیں لیکن اندر سے ریزہ ریزہ اور اذیت زدہ ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ہم نے معاشرے کے اس ظالمانہ دباؤ کو کیوں قبول کر رکھا ہے۔
(اقتباس: جون ایلیا کے انشائیے "نظر آنا" (مارچ 1992ء، ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ) سے)

Wednesday, 17 December 2014



جون ایلیا 14 دسمبر، 1937ء کو امروہہ، اتر پردیش کے ایک نامور خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیا کو فن اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل بھی انہی خطوط پر کی۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 سال کی عمر میں لکھا۔ اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں قلم طراز ہیں:

"میری عمر کا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم اور ماجرا پرور سال تھا۔ اس سال میری زندگی کے دو سب سے اہم حادثے، پیش آئے۔ پہلا حادثہ یہ تھا کہ میں اپنی نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں نے پہلا شعر کہا:

چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی"

جون اپنے لڑکپن میں بہت حساس تھے۔ ان دنوں ان کی کل توجہ کا مرکز ایک خیالی محبوب کردار صوفیہ تھی، اور ان کے غصے کا نشانہ متحدہ ہندوستان کے انگریز قابض تھے۔ وہ ابتدائی مسلم دور کی ڈرامائی صورت میں دکھاتے تھے جس وجہ سے ان کے اسلامی تاريخ کے علم کے بہت سے مداح تھے۔ جون کے مطابق ان کی ابتدائی شاعری سٹیج ڈرامے کی مکالماتی فطرت کا تاثر تھی۔

ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے۔ یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے۔چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔حضرت علی کی ذات مبارک سے انہیں خصوصی عقیدت تھی اور انہیں اپنی سیادت پر بھی ناز تھا۔۔ سعید کہتے ہیں، "جون کو زبانوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت حاصل کر لی تھی۔"

اپنی جوانی میں جون کمیونسٹ خیالات رکھنے کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن بعد میں اسے ایک سمجھوتہ کے طور پر قبول کر لیا۔ ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور پذیرائی نصیب ہوئی۔

جون ایلیا کی کتاب شاید کا ان کی تصویر والا سرورق
جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ شاید اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی۔ نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی پسند اور فوضوی تھے۔ ان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں کر سکيں۔

جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ملاقات اردو کی ایک اور انتھک مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے بعد میں انہوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا ایک اپنے انداز کی ترقی پسند دانشور ہیں اور اب بھی دو روزناموں، جنگ اور ایکسپریس، میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کر دی۔

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 2000ءمیں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انھی کا یہ شعر تحریر ہے

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور _________ ملال بھی نہیں

وہ جو شاعر تھا

وہ جو شاعر تھا، چُپ سا رہتا تھا
بہکی بہکی سی باتیں کرتا تھا
آنکھیں کانوں پہ رکھ کے سُنتا تھا
... ... گونگی خاموشیوں کی آوازیں!
جمع کرتا تھا چاند کے سائے
اور گیلی سی نوُر کی بوُندیں
روُکھے روُکھے سے رات کے پتے
لوک میں بھر کے کھڑکھڑاتا تھا
وقت کے اس گھنیرے جنگل میں
کچے پکے سے لمحے چُنتا تھا
ھاں، وھی، وہ عجیب سا شاعر
رات کو اُٹھ کے کہنیوں کے بَل
چاند کی ٹھوڑی چوُما کرتا تھا
چاند سے گِر کے مر گیا ھے وہ
لوگ کہتے ھیں خودکشی کی ھے

"گُلزار"
Types of Literature

Autobiography:-

Autobiography is the story of a person's life written or told by that person.

Bill Peet: An Autobiography

Biography:-

Biography is the story of a person's life written or told by another person.

EX: Eleanor, by Barbara Cooney

Fable:-

Fable is a story that teaches a moral or a lesson. It often has animal characters.

EX:The Tortoise and the Hare

Fantasy novels:-

Fantasy novels are often set in worlds much different from our own and usually include magic, sorcery and mythical creature.

EX: The Harry Potter series by J. K. Rowling

Folktale:-

Folktale is a story that has been passed down, usually orally, within a culture. It may be based on superstition and feature supernatural characters. Folktales include fairy tales, tall tales, trickster tales and other stories passed down over generations.

EX: Hansel and Gretel

Legend:-

Legend is a story that has been handed down over generations and is believed to be based on history, though it typically mixes fact and fiction. The hero of a legend is usually a human.

King Arthur and the Roundtable

Myth:-

Myth is a traditional story that a particular culture or group once accepted as sacred and true. It may center on a god or supernatural being and explain how something came to be, such as lightning or music or the world itself.

EX: The Greek story of the Titan Prometheus bringing fire to humankind

Science Fiction:-

Science Fiction stories examine how science and technology affect the world. The books often involve fantasy inventions that may be reality in the future.

EX: The Left Hand of Darkness,by Ursula Le Guin....

Essays:-

Essays are a short literary composition that reflects the author’s outlook or point. A short literary composition on a particular theme or subject, usually in prose and generally analytic, speculative, or interpretative.

Drama:-

Drama is the genre of literature that’s subject for compositions is dramatic art in the way it is represented. This genre is stories composed in verse or prose, usually for theatrical performance, where conflicts and emotion are expressed through dialogue and action.

Poetry:-

Poetry is verse and rhythmic writing with imagery that evokes an emotional response from the reader. The art of poetry is rhythmical in composition, written or spoken. This genre of literature is for exciting pleasure by beautiful, imaginative, or elevated thoughts.

Humor:-

Humor is the faculty of perceiving what is amusing or comical. Fiction full of fun, fancy, and excitement which meant to entertain. This genre of literature can actually be seen and contained within all genres.

Mystery:-

Mystery is a genre of fiction that deals with the solution of a crime or the unraveling of secrets. Anything that is kept secret or remains unexplained or unknown.

Realistic Fiction:-

Realistic Fiction is a story that can actually happen and is true to real life.

Short Story:-

Short Story is fiction of such briefness that is not able to support any subplots.

’’دستور‘‘

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے
تو وہ حملہ نہیں‌کرتا
سنا ہے جب
کسی ندی کے پانی میں
بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں‌اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں‌
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر
کوےکے انڈوں کو پروں‌سے تھام لیتی ہے
سناہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گر ے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے
کوئی پُل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری ، سانپ ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

خداوندِ جلیل و معتبر ، دانا و بینا منصف و اکبر
ہمارے شہر میں اب
جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر !!!

(زہرہ نگاہ)
Black day 16.12.2014

8 psychological tricks in Urdu which will make your life easy || Top 8 psychology tricks

8 psychological tricks in Urdu which will make your life easy || Top 8 psychology tricks https://youtu.be/PnxGaJCLoQw ...