Monday, 27 July 2015

پر نکلتے گئے پرندوں کے
اور پھر ہو گیا شجر خالی
خالد محبوب

Thursday, 11 June 2015

دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا ان کے پاس
عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے!
Aaj shamshan ki si boo hay yahan
Kia koi jism jal raha hay kahin
Jaun Elia
کیا کہیں تم سے بود و باش اپنی
کام ہی کیا وہی تلاش اپنی
کوئی دم ایسی زندگی بھی کریں
اپنا سینہ ہو اور خراش اپنی
اپنے ہی تیشہ ندامت سے
ذات ہے اب تو پاش پاش اپنی
ہے لبوں پر نفس زنی کی دکاں
یاوہ گوئی ہے بس معاش اپنی
تیری صورت پہ ہوں نثار پہ اب
اور صورت کوئی تراش اپنی
جسم و جاں کوتو بیچ ہی ڈالا
اب مجھے بیچنی ہے لاش اپنی
-جون ایلیا-

Monday, 8 June 2015

شکست
اپنے سینے سے لگائے ہوئے اُمید کی لاش
مدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نے
تو نے تو ایک ہی صدمے سے کیا تھا دوچار
دل کو ہر طرح سے برباد کیا ہے میں نے
جب بھی راہوں میں‌ نظر آئے حریری ملبوس
سرد آہوں میں تجھے یاد کیا ہے میں نے
اور اب جب کہ مری روح کی پہنائی میں
ایک سنسان سی مغموم گھٹا چھائی ہے
تو دمکتے ہوئے عارض کی شعائیں لے کر
گل شدہ شمعیں جلانے کو چلی آئی ہے
میری محبوب __ یہ ہنگامہء تجدیدِ وفا
میری افسردہ جوانی کے لیے راس نہیں
میں نے جو پھول چنے تھے ترے قدموں کے لیے
اُن کا دھندلا سا تصور بھی میرے پاس نہیں
ایک یخ بستہ اُداسی ہے دل و جاں پہ محیط
اب مری روح میں باقی ہے ___ نہ امید ___ نہ جوش
رہ گیا دب کے گراں بار سلاسل کے تلے
میری درماندہ جوانی کی اُمنگوں کا خروش
ریگ زاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں
سایہ ابرِ گریزاں سے مجھے کیا لینا
بُجھ چکے ہیں مرے سینے میں محبت کے کنول
اب ترے حسنِ پشیماں سے مجھے کیا لینا
تیرے عارض پہ یہ ڈھلکے ہوئے سیمیں آنسو
میری افسردگیء غم کا مداوا تو نہیں
تیری محبوب نگاہوں کا پیامِ تجدید
اِک تلافی ہی سہی ___ میری تمنا تو نہیں
(ساحر لدھیانوی)
ﯾﻮﮞ ﮐﺮﭼﯿﺎﮞ ﺳﻤﯿﭧ ﮐﺮ ﺍﺣﺴﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﯿﺠﯿﮯ
ﺑﮑﮭﺮﯼ ﮨﮯ ﺍﺏ ﮐﮧ ﺫﺍﺕ ﻣﺮﯼ ﭼﻮﮌﯾﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ
حکیم مومن خان مومن نے پہلا عشق نو برس کی عمر میں اپنی ہم جولی پڑوسن کی ایک لڑکی سے کیا جو دو برس تک جاری رہا، اس لڑکی کی اچانک موت نے ایک عرصہ انہیں افسردہ کیے رکھا، اس عالم میں ان کی ایک عزیزہ اپنی بیٹی سیما کے ساتھ ان کی تیمار داری کے لیے آئی، سیما مہمان بن کر آئی اور ان کے دل کی مالک ہوگئی، تنہائی کے جو بھی مواقع میسر آئے مؤمن نے ہر ہر موقعے کو خوب کشید کیا، دوپہر میں جب سب سو جاتے ان دونوں کے بخت جاگ جاتے، وہ دونوں محوِ نشاط تھے کہ کسی کی نظر پڑ گئی، خبر عام ہو گئی، اتنی سی عمر اور یہ حرکات، سزا کے طور پر نزلہ 
سیما کے سر گرا، اور اسے واپس بھیج دیا گیا، 
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے،
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
کون کاٹے گا ڈور سانسوں کی
ختم ہو گا کہاں سفر ؟ صاحِب !
بندگی سے ہمیں تو مطلب ہے
ہم ثواب و عذاب کیا جانیں___!
کس میں کتنا ثواب ملتا ہے
عشق والے حساب کیا جانیں__!

Tuesday, 26 May 2015



میں اپنے آپ کو آزاد کرنے والا ہوں__!


ترے خیال کی اس قیدِ با مشقت سے
مرے ویران کمرے میں
کبھی آؤ دکھاؤں میں
دراڑیں سانپ بن کر
کیسے دیواروں سے لپٹی ہیں
کبھی آؤ دکھاؤں
چیونٹیاں لمبی قطاروں میں
مری ہمسائیآں ہو کر
مجھی سے لا تعلّق ہیں
کبھی آؤ دکھاؤں میں
ہوا ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے اَ کر
کس طرح مجھ کو چڑاتی ہے
سحر ہوتے ہی کیسے
روشنی آنکھوں میں چبھ کر
مجھ پہ طنزا مسکراتی ہے
کبھی آؤ دکھاؤں میں
, مرے چاروں طرف بکھرے ہوئے
سگریٹ کے ٹکڑے ہیں
کہ جیسے اک پرانی قبر پر
رکھے ہوئے سوکھے ہوئے پتّے
کبھی آؤ دکھاؤں میں
وہ الماری کہ جو چوپٹ کھلی ہے
اور میں اس میں ڈھونڈتا ہوں کچھ
تو اکثر بھول جاتا ہوں
کہ میں کیا ڈھونڈتا ہوں
اور یہ ٹیڑھا آئینہ
ٹوٹے ہوئے چہرے پہ کیسے چونک اٹھتا ہے
کبھی آؤ دکھاؤں میں
مرے ویران کمرے کے بہت گمنام کونے میں
تمہارے ہجر کے دن سے
یہ دل حیران کتنا ہے
تمھارے بعد یہ کمرہ مرا ویران کتنا ہے

8 psychological tricks in Urdu which will make your life easy || Top 8 psychology tricks

8 psychological tricks in Urdu which will make your life easy || Top 8 psychology tricks https://youtu.be/PnxGaJCLoQw ...