Saturday, 31 January 2015

اس دور کا سب سے نمایاں رجحان یہ ہے کہ جو تم ہو وہ نظر نہ آؤ. یہ معاشرے کا دباؤ ہے جو ہمیں اس بے معنی اداکاری پر مجبور کرتا ہے۔ ہم باہر سے بہت ثابت و سالم ہشاش بشاس نظر آتے ہیں لیکن اندر سے ریزہ ریزہ اور اذیت زدہ ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ہم نے معاشرے کے اس ظالمانہ دباؤ کو کیوں قبول کر رکھا ہے۔
(اقتباس: جون ایلیا کے انشائیے "نظر آنا" (مارچ 1992ء، ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ) سے)

Wednesday, 17 December 2014



جون ایلیا 14 دسمبر، 1937ء کو امروہہ، اتر پردیش کے ایک نامور خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیا کو فن اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل بھی انہی خطوط پر کی۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 سال کی عمر میں لکھا۔ اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں قلم طراز ہیں:

"میری عمر کا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم اور ماجرا پرور سال تھا۔ اس سال میری زندگی کے دو سب سے اہم حادثے، پیش آئے۔ پہلا حادثہ یہ تھا کہ میں اپنی نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں نے پہلا شعر کہا:

چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی"

جون اپنے لڑکپن میں بہت حساس تھے۔ ان دنوں ان کی کل توجہ کا مرکز ایک خیالی محبوب کردار صوفیہ تھی، اور ان کے غصے کا نشانہ متحدہ ہندوستان کے انگریز قابض تھے۔ وہ ابتدائی مسلم دور کی ڈرامائی صورت میں دکھاتے تھے جس وجہ سے ان کے اسلامی تاريخ کے علم کے بہت سے مداح تھے۔ جون کے مطابق ان کی ابتدائی شاعری سٹیج ڈرامے کی مکالماتی فطرت کا تاثر تھی۔

ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے۔ یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے۔چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔حضرت علی کی ذات مبارک سے انہیں خصوصی عقیدت تھی اور انہیں اپنی سیادت پر بھی ناز تھا۔۔ سعید کہتے ہیں، "جون کو زبانوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت حاصل کر لی تھی۔"

اپنی جوانی میں جون کمیونسٹ خیالات رکھنے کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن بعد میں اسے ایک سمجھوتہ کے طور پر قبول کر لیا۔ ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور پذیرائی نصیب ہوئی۔

جون ایلیا کی کتاب شاید کا ان کی تصویر والا سرورق
جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ شاید اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی۔ نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی پسند اور فوضوی تھے۔ ان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں کر سکيں۔

جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ملاقات اردو کی ایک اور انتھک مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے بعد میں انہوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا ایک اپنے انداز کی ترقی پسند دانشور ہیں اور اب بھی دو روزناموں، جنگ اور ایکسپریس، میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کر دی۔

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 2000ءمیں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انھی کا یہ شعر تحریر ہے

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور _________ ملال بھی نہیں

وہ جو شاعر تھا

وہ جو شاعر تھا، چُپ سا رہتا تھا
بہکی بہکی سی باتیں کرتا تھا
آنکھیں کانوں پہ رکھ کے سُنتا تھا
... ... گونگی خاموشیوں کی آوازیں!
جمع کرتا تھا چاند کے سائے
اور گیلی سی نوُر کی بوُندیں
روُکھے روُکھے سے رات کے پتے
لوک میں بھر کے کھڑکھڑاتا تھا
وقت کے اس گھنیرے جنگل میں
کچے پکے سے لمحے چُنتا تھا
ھاں، وھی، وہ عجیب سا شاعر
رات کو اُٹھ کے کہنیوں کے بَل
چاند کی ٹھوڑی چوُما کرتا تھا
چاند سے گِر کے مر گیا ھے وہ
لوگ کہتے ھیں خودکشی کی ھے

"گُلزار"
Types of Literature

Autobiography:-

Autobiography is the story of a person's life written or told by that person.

Bill Peet: An Autobiography

Biography:-

Biography is the story of a person's life written or told by another person.

EX: Eleanor, by Barbara Cooney

Fable:-

Fable is a story that teaches a moral or a lesson. It often has animal characters.

EX:The Tortoise and the Hare

Fantasy novels:-

Fantasy novels are often set in worlds much different from our own and usually include magic, sorcery and mythical creature.

EX: The Harry Potter series by J. K. Rowling

Folktale:-

Folktale is a story that has been passed down, usually orally, within a culture. It may be based on superstition and feature supernatural characters. Folktales include fairy tales, tall tales, trickster tales and other stories passed down over generations.

EX: Hansel and Gretel

Legend:-

Legend is a story that has been handed down over generations and is believed to be based on history, though it typically mixes fact and fiction. The hero of a legend is usually a human.

King Arthur and the Roundtable

Myth:-

Myth is a traditional story that a particular culture or group once accepted as sacred and true. It may center on a god or supernatural being and explain how something came to be, such as lightning or music or the world itself.

EX: The Greek story of the Titan Prometheus bringing fire to humankind

Science Fiction:-

Science Fiction stories examine how science and technology affect the world. The books often involve fantasy inventions that may be reality in the future.

EX: The Left Hand of Darkness,by Ursula Le Guin....

Essays:-

Essays are a short literary composition that reflects the author’s outlook or point. A short literary composition on a particular theme or subject, usually in prose and generally analytic, speculative, or interpretative.

Drama:-

Drama is the genre of literature that’s subject for compositions is dramatic art in the way it is represented. This genre is stories composed in verse or prose, usually for theatrical performance, where conflicts and emotion are expressed through dialogue and action.

Poetry:-

Poetry is verse and rhythmic writing with imagery that evokes an emotional response from the reader. The art of poetry is rhythmical in composition, written or spoken. This genre of literature is for exciting pleasure by beautiful, imaginative, or elevated thoughts.

Humor:-

Humor is the faculty of perceiving what is amusing or comical. Fiction full of fun, fancy, and excitement which meant to entertain. This genre of literature can actually be seen and contained within all genres.

Mystery:-

Mystery is a genre of fiction that deals with the solution of a crime or the unraveling of secrets. Anything that is kept secret or remains unexplained or unknown.

Realistic Fiction:-

Realistic Fiction is a story that can actually happen and is true to real life.

Short Story:-

Short Story is fiction of such briefness that is not able to support any subplots.

’’دستور‘‘

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے
تو وہ حملہ نہیں‌کرتا
سنا ہے جب
کسی ندی کے پانی میں
بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں‌اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں‌
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر
کوےکے انڈوں کو پروں‌سے تھام لیتی ہے
سناہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گر ے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے
کوئی پُل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری ، سانپ ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

خداوندِ جلیل و معتبر ، دانا و بینا منصف و اکبر
ہمارے شہر میں اب
جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر !!!

(زہرہ نگاہ)
Black day 16.12.2014

Monday, 24 November 2014

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغ گلشن و صوت ہزار کا موسم

7 ستمبر 1976ء کو ریڈیو پاکستان لاہور کے "یاد باغ" میں فیض احمد فیض نے ایک پودا لگایا۔ وہ اب ہم میں نہیں لیکن یہ پودا اب ایک تن آور درخت بن چکا ہے جسے دوسری تصویر میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔
دور ہے ان گنت خداؤں کا
کیا بنے گا مری دعاؤں کا
تری خوشبو سنبھال رکھی ہے
راستہ روک کر ہواؤں کا

فضل حسین ثمیم

مر بھی جاؤں تو کہاں ،لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے ـــــ مرے ہونے کی گواہی دیں گے

آج خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کا جنم دن ہے

24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔

شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔

انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔
خوشبو (1976ء)،
صد برگ (1980ء)،
خود کلامی (1990ء)،
انکار (1990ء)
ماہ تمام (1994ء)

پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہے جو درد کائنات بن جاتا ہے اسی لیے انہیں دور جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام حاصل ہے ۔۔ حالانکہ وہ یہ بھی اعتراف کرتی ہیں کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کشور ناہید، پروین فنا سید، فہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں ، لیکن ان کے یہاں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی ہم عصر دوسری شاعرات کے یہاں نظر نہیں آتی ۔ اُن کی شاعری میں قوس قزح کے ساتوں رنگ نظر آتے ہیں ۔ اُن کے پہلے مجموعے خوشبو میں ایک نوجوان دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہار ہے اور اس وقت پروین شاکر اسی منزل میں تھیں۔ زندگی کے سنگلاخ راستوں کا احساس تو بعد میں ہوا جس کا اظہار ان کی بعد کی شاعری میں جگہ جگہ ملتا ہے ۔ ماں کے جذبات شوہر سے ناچاقی اور علیحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل ان سبھی کو انہوں نے بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔

26 دسمبر 1994ء کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔ لواحقین میں ان کے بیٹے کا نام مراد علی ہے۔

Saturday, 8 November 2014

ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﺎﻻﺕِ ﺣﺎﺿﺮﮦ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻠﮉﭘﺮﯾﺸﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻟﯽ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﮯ، ﻭﮦ ﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﮯ ۔ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺣﺎﻻﺕ کا ذمہ دار.

"مشتاق احمد یوسفی"

آج سے پانچ برس پہلے کہنے کو ایک شاعر میرے ساتھ فیملی پلاننگ میں سروس کرتا تھا ۔ میں بہت بانماز ہوتی تھی ۔ گھر سے آفس تک کا راستہ بڑی مشکل سے یاد کیا تھا ۔ لکھنے پڑھنے سے بالکل شوق نہیں تھا۔ اتنا ضرور پتہ تھا ۔ شاعر لوگ بڑے ہوتے ہیں ۔

ایک شام شاعر صاحب نے کہا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ پھر ایک روز ریستوراں میں ملاقات ہوئی۔ اُس نے کہا شادی کرو گی؟ دوسری ملاقات میں شادی طے ہو گئی۔ اَب قاضی کے لئے پیسے نہیں تھے۔ میں نے کہا ۔ آدھی فیس تم قرض لے لو اور آدھی فیس میں قرض لیتی ہوں۔ چونکہ گھر والے شریک نہیں ہوں گے میری طرف کے گواہ بھی لیتے آنا۔

ایک دوست سے میں نے اُدھار کپڑے مانگے اور مقررہ جگہ پر پہنچی اور نکاح ہو گیا۔ قاضی صاحب نے فیس کے علاوہ میٹھائی کا ڈبہ بھی منگوالیا تو ہمارے پاس چھ روپے بچے۔

باقی جھنپڑی پہنچتے پہنچتے ، دو روپے، بچے ۔ میں لالٹین کی روشنی میں گھونگھٹ کاڑھے بیٹھی تھی۔ شاعر نے کہا ، دو روپے ہوں گے، باہر میرے دوست بغیر کرائے کے بیٹھے ہیں۔ میں نے دو روپے دے دئے۔ پھر کہا ! ہمارے ہاں بیوی نوکری نہیں کرتی۔ نوکری سے بھی ہاتھ دھوئے۔

گھر میں روز تعلیم یافتہ شاعر اور نقاد آتے اور ایلیٹ کی طرح بولتے۔ کم از کم میرے خمیر میں علم کی وحشت تو تھی ہی لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی بُھوک برداشت نہ ہوتی ۔

روز گھر میں فلسفے پکتے اور ہم منطق کھاتے۔

ایک روز جھونپڑی سے بھی نکال دیئے گئے، یہ بھی پرائی تھی۔ ایک آدھا مکان کرائے پر لے لیا۔ میں چٹائی پر لیٹی دیواریں گِنا کرتی ۔ اور اپنے جہل کا اکثر شکار رہتی۔

مجھے ساتواں مہینہ ہوا۔ درد شدید تھا اور بان کا درد بھی شدید تھا ۔ عِلم کے غرور میں وہ آنکھ جھپکے بغیر چلا گیا۔ جب اور درد شدید ہوا تو مالِک مکان میری چیخیں سُنتی ہوئی آئی اور مجھے ہسپتال چھوڑ آئی ۔ میرے ہاتھ میں درد اور پانچ کڑکڑاتے ہوئے نوٹ تھے۔

تھوڑی دیر کے بعد لڑکا پیدا ہوا۔ سردی شدید تھی اور ایک تولیہ بھی بچے کو لپیٹنے کے لئے نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے میرے برابر اسٹریچر پر بچے کو لِٹا دیا پانچ منٹ کے لئے بچے نے آنکھیں کھولیں اور کفن کمانے چلا گیا۔

بس ! جب سے میرے جسم میں آنکھیں بھری ہوئی ہیں۔ Sister وارڈ میں مجھے لٹا گئی۔ میں نے Sister سے کہا میں گھر جانا چاہتی ہوں کیونکہ گھر میں کسی کو عِلم نہیں کہ میں کہاں ہوں ۔ اُس نے بے باکی سے مجھے دیکھا اور کہا ، تنہارے جسم میں ویسے بھی زہر پھیلنے کا کا ڈر ہے ۔ تم بستر پر رہو ۔ لیکن اب آرام تو کہیں بھی نہیں تھا۔

میرے پاس مُردہ بچہ اور پانچ رُوپے تھے۔

میں نے Sister سے کہا ، میرے لئے اب مشکل ہے ہسپتال میں رہنا۔ میرے پاس فیس کے پیسے نہیں ہیں میں لے کر آتی ہوں، بھاگوں گی نہیں۔

تمہارے پاس میرا مُردہ بچہ امانت ہے، اور سیڑھیوں سے اُتر گئی۔ مجھے 105 ڈگری بُخار تھا۔ بس پر سوار ہوئی ، گھر پہنچی۔ میرے پستانوں سے دُودھ بہہ رہا تھا ۔میں دودھ گلاس میں بھر کر رکھ دیا ۔ اتنے میں شاعر اور باقی منشی حضرات تشریف لائے ۔ میں نے شاعر سے کہا ، لڑکا پیدا ہوا تھا ، مَر گیا ہے۔

اُس نے سرسری سنا اور نقادوں کو بتایا۔ کمرے میں دو منٹ خاموشی رہی اور تیسرے منٹ گفتگو شروع ہوگئی !

فرائڈ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟
راں بو کیا کہتا ہے ؟
سعدی نے کیا کہا ہے ؟
اور وارث شاہ بہت بڑا آدمی تھا ۔

یہ باتیں تو روز ہی سُنتی تھی لیکن آج لفظ کُچھ زیادہ ہی سُنائی دے رہے تھے۔ مجھے ایسا لگا ! جیسے یہ سارے بڑے لوگ تھوڑی دیر کے لئے میرے لہو میں رُکے ہوں، اور راں بو اور فرائڈ میرے رحم سے میرا بچہ نوچ رہے ہوں۔ اُس روز علم میرے گھر پہلی بار آیا تھا اور میرے لہُو میں قہقہے لگا رہا تھا ۔ میرے بچے کا جنم دیکھو !!!

چنانچہ ایک گھنٹے کی گفتگو رہی اور خاموشی آنکھ لٹکائے مجھے دیکھتی رہی۔ یہ لوگ عِلم کے نالے عبُور کرتے کمرے سے جُدا ہوگئے۔

میں سیڑھیوں سے ایک چیخ کی طرح اُتری۔ اب میرے ہاتھ میں تین رُوپے تھے ۔ میں ایک دوست کے ہاں پہنچی اور تین سو روپے قرض مانگے ۔ اُس نے دے دیئے ۔ پھر اُس نے دیکھتے ہوئے کہا ! کیا تمہاری طبیعت خراب ہے ؟

میں نے کہا ، بس مجھے ذرا ا بخار ہے ، میں زیادہ دیر رُک نہیں سکتی پیسے کسی قرض خواہ کو دینے ہیں ، وہ میرا انتظار کر رہا ہوگا۔ ہسپتال پہنچی ۔ بِل 295 روپے بنا۔ اب میرے پاس پھر مُردہ بچہ اور پانچ روپے تھے۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا۔ آپ لوگ چندہ اکٹھا کر کے بچے کو کفن دیں، اور اِس کی قبر کہیں بھی بنا دیں۔ میں جارہی ہوں۔ بچے کی اصل قبر تو میرے دل میں بَن چکی تھی۔

میں پھر دوہری چیخ کے ساتھ سیڑھیوں سے اُتری اور ننگے پیر سڑک پہ دوڑتی ہوئی بس میں سوار ہوئی۔

ڈاکٹر نے سمجھا شاید صدمے کی وجہ سے میں ذہنی توازن کھو بیٹھی ہوں۔ کنڈکٹر نے مجھ سے ٹکٹ نہیں مانگا اور لوگ بھی ایسے ہی دیکھ رہے تھے۔ میں بس سے اُتری، کنڈکٹر کے ہاتھ پر پانچ روپے رکھتے ہوئے ، چل نکلی۔ گھر ؟ گھر!! گھر پہنچی۔

گلاس میں دودھ رکھا ہوا تھا۔ کفن سے بھی زیادہ اُجلا۔

میں نے اپنے دودھ کی قسم کھائی ۔ شعر میں لکھوں گی، شاعری میں کروں گی، میں شاعرہ کہلاؤں گی۔اور دودھ باسی ہونے سے پہلے ہی میں نے ایک نظم لکھ لی تھی، لیکن تیسری بات جھوٹ ہے، میں شاعرہ نہیں ہوں۔ مجھے کوئی شاعرہ نہ کہے۔ شاید میں کبھی اپنے بچے کو کفن دے سکوں۔

آج چاروں طرف سے شاعرہ! شاعرہ! کی آوازیں آتی ہیں، لیکن ابھی تک کفن کے پیسے پُورے نہیں ہوئے۔

(سارا شگفتہ بزبانِ خود ــــــــــــــــ پہلا حرف)

بیٹے کے لیے ایک نظم

میری مٹی تمہیں دیکھتی تھی
اور بیج کادردشدید تھا
تمہارا موزہ کھیتوں میں اُگ چکاتھا
میرے پاٴوں پر مٹی بھاری ہوٴی
سرگوشیوں میں پھول اُگے
دریاجنگل چرالاٴے
چھاٴوں میں نے بچھادی
اور تمہاری خوشبو پھولوں میں پڑگٴی تھی
مٹی میرے گھر مبارک باد دینے آٴٴی
پھول اور ستارے
کیاری کا دل دھڑکارہے تھے
شاخیں مٹی کوچومتیں
میں نے ایک پیڑتراشا
اور تیراجھولابنایا
کیا خبر تھی شاخوں کے لیے کوٴی پیڑ نہ رہے گا
پرندے مٹی پہ بسیرا کربیٹھے
‘’ مٹی نے گھونگٹ نکالاتو قبر نے مجھے ماں کہہ دیا إ’’
‘’یہاں گندم کھلانے والی عورت ماں تھی’’
وہ بے خواب سا
جانے کہاں سے چلاتھا۔۔
ہم زمین پہ مل گٴے
خدانے اس کانام آدم رکھامیں نے بیٹا
ہم دونوں تنہا تھے
وہ معصوم تھا اور میں خوش
میں ساری اداسی پاٹ ڈالی
اور کیاری میں ہاتھ بودیے
پرانی سارانٴی ہوگٴی تھی
میرے ہاتھوں سے ہاتھ جاتے رہے
مجھے کیاخبر تھی
مٹی ہوٴی چیزوں سے بھی
کچھ چھین لیاجاتاہے
چاند داغ سہتاآیاہے
مجھے مٹی کا الزام سہناتھا
اب منے کی ہنسی میں
جزبے بس چکے تھے إ
پتھر لہومیں پڑرہے تھے
اور میں چھلک رہی تھی
تنہاٴی ساخوف ہمیشہ میراپیھچا کرتا
انجانے سمندر میں
میں نےکشتیاں چھوڑدیں إ
موج مٹی میں کہیں کھو گٴی تھی
جب اندھیرے میں چراغ اٹک گیا
اندھیرے میں میری سانس اٹکی ہوٴی تھی
میں نے امید کے چراغ سے رسی جلاٴی
اور اپنے ٹکڑے کی چھاٴوں بن بیٹھی
ستارے ٹوٹ رہے تھے
اور میرے بچے کی عمر گھٹ رہی تھی
خوف نے میرے بال کھول دیءے
تومیں نے اپنی مانگ کانام بیٹا رکھا
دوسال ہاتھوں میں بیت گٴے
: چھوتھے سال میرابیٹاراستے کی طرف اشارہ کرسکتاتھا
سسکتی شام میں ، میں سوءیٹر بن رہی تھی
: کہ پانچ گھرگرگٴے
بان جیسے زندہ ہوگیا ہو اور میں مردہ
شام نے قہقہہ لگایا
اور چاند کو اشارہ کرگٴی
بیٹے کو دیکھ کر دوپٹہ سے ڈھانپ دیتی
اس کی نیند میں ساراگھرگھوم آتی
: دیوار گرگٴی توبے پردگی ہوگٴی
لیکن یہاں تو ماں رہتی ہے
ماں کاجسم اور خوبصورت ہوجاتاہے
میرابیٹاسورہاتھا
اور میری گڑیاجاگ گٴی تھی
شام نے پھر چٹکی بجاٴی
اور میرا بیٹا کچھ خرید لایا
ربڑکا سانپ
میں سچے لمحے میں چلاٴی ،زہر
یہ زہر تو مصنوعی ہے ماں
اور میری کوکھ مین ربڑکاسانپ رہ گیا
میرے بچے کی شرارت پانچ سال کی ہوگٴی
سورج کی سلاخوں پہ
کپڑے سکھا بیھٹی
انجانے خوف نے آگ پکڑی إ
بچے نے لفظ گوش گزارے
الف سے اللہ،میم سے ماں إ
مین نے لفظ کو ٹھنڈا کیا
: بیٹے میم سے محمد
میم کامطلب تو منور ہوتاہے ماں
پھر آپ کیوں رہی ہیں ؟
بہت سی منور چیزیں رورہی ہیں بیٹا
کھلونے کھیلوں إإ
کھلونے کا لفظ نہ دہرانا بیٹا
: نہیں تو ربڑ کاسانپ زندہ ہوجاٴے گا
ماں تم میرے کھیل سے کھوکیوں جاتی ہو ؟
خوف زدہ کیوں رہتی ہو
جتنے پورنے ڈالاکروں
اتنی ہی تختی لکھاکروبیٹا إ
گیند کبھی دیواروں کو چھو تی کبھی کھوجاتی
کبھی مٹی کی کوکھ بن جاتی
گیند سے کہیں ماں گھرٹوٹے إ
میں کس کے پاس سوٴوں گا
اندیشوں میں جاگ مت لگابیٹے إ
مٹی کی طرح چھاٴوں کے کپڑے نہ پہن
کہیں دکھ زرخیز نہ ہوجاٴیں إ
خاک کوآگ کی بددعا ہے
میرے ہوتے ہوٴے ماں دعا مانگ رہی ہو إ
سورج میرے تلوے چاٹرہاہے إ
کہیں تمہیں نظر نہ لگ جاٴے
پھولوں کے پاس مت جایاکرو
کیامیری ماں کاٴنات کی قید میں ؟
فکر انسانی موڑپہ ہے
اور علم میری قید کاٹ رہاہے
: کڑیاں پہلو میں سورہی ہیں
سمندر کی سطح کھلتی ہی نہیں
گناہ کی پشت دیکھ رہی ہوں إ
چراغ محو ہے انسانوں میں
میں اپنے کھلونوں سے ہی ڈر گٴی تھی
جلی رسیوں پہ نقش پا ٹھہر گیا
: اور فاصلے پہ آنکھ مر گٴی
:‘’ماں کے لفظ پہ زمین ختم ہوجاتی ہے’’
تو میں کہاں کھیلوں گا ؟
: اور ستارے آسمان کو لوری سناتے رہے
بچے کے ہاتھ میں سوٴی چھبی
: اور اس نے درد کو خاموشی پر رکھا
إإ‘’سوٴی سے آواز آٴی ،ماں’’
: میں سمجھی خدا یہی ہے
ستارے گننے سکھاٴے تھے
: کیاخبر تھی کل اسے دیواریں گننا سکھادے گی
“ جب منور چراغوں سے میرے دوپٹے میں آگ لگی”
میرا بچہ آگ سے ڈر گیا
میں خود سے چپھی چپھی اسے شیر چکھاتی
لیکن وہ آگ سے ایسا ڈرا
: کہ میری توماں بیت گٴی
“ میری آہ پہ لوگ قرآن پڑھتے”
مجھے دیکھ کرماٴوں کے سینے سے دودھ بہنے لگتا
اور جب میں میں بچے کو ڈونڈتی
: میرے پستانوں میں دودھ رہ جاتا
ہاتھوں کے کتبے قبرڈھونڈنے لگتے
“خاموش قبریں بھی چلااُٹھتیں”
بچے اور ماں کے درمیان
کوٴی انسانی کڑی رہ جاٴے
: تو بیٹا کنکر سے مکالمہ مت کرنا
میری کتابیں پڑھنا
آگ سے ڈرے ہو
میرے لفظ کی روح سے مت ڈرنا
: کہ روح کادوپٹہ منور چراغوں سے نہیں جلتا
جانے آج تم نے کونسا رنگ پہنا ہوگا”
جانے آج دکھ تمہارے گھر کتنی دیر ٹھہر اہوگا
تمہاری شرارتوں سے کیاریاں بھر گٴی ہوں گی
تمہاری آواز میری آنکھوں جیسی ہوگٴی ہوگی
تمہاری ہنسی مجھ سے مکالمہ کرتی ہوگی
” محلے کے بچے تم سے ماٴون کی شکایت کرتے ہوں گے
کاش میں تمہاری پور سے کانٹانکالتی
اور کسی بھی تہوار پہ یہ خالی ہاتھ تمہیں دے دیتی
: تیری شرارتوں سے میں جوان ہوجاتی
میں نے قدم تہہ کٴے
اور تیری دیوار کے ساتھ کھڑی ہوگٴی
دیوار سانس لینے لگی إ
میں جھری سے تمہیں دیکھتی
آنگن کھیل رہاہوتا لیکن دروازہ بند تھا
جیسے آواز مجھ مر گٴی ہو
اور آنکھوں
نے تجھے گود لے رکھاہو
میری آنکھوں سے تیر سے کنچے کھوگٴے
میرا دوپٹہ کراہتا
اور چراغ ہوا کے ساتھ رقص کرگٴے
پھر آہوں کی بیلوں سے
میں نے دیوار ڈھکی
چراغ مین پھنکارتی آگ
میرے کفن کوگالی بناگٴی
سیاہ آنکھوں والی ماٴیں
رات کی قیدی تھیں
ان کے نیند میں جنے ہوءے بچے
انھیں اتنا جگاجاتے کہ یہ جاگتے میں مرجاٴیں
پھر میں دیپ لے کر کبھی جنگل نہ گٴی
میں کوڑے کے ڈھیر سے آنکھیں اٹھا اٹھا کر پڑھاکرتی
انجانے تارے ٹوٹ رہے تھے
آسمان نے مجھے کہا، ماں إ
اور میری آنکھ آسمان ہوگٴی
چاند نے آدھی بات کہی اور صبح ہوگٴی
مجھے انسانوں کی بھوک لگی
تومیرے کپڑوں نے فاقہ قبول کرلیا
ساٴے ٹل جاٴیں تو دھوپ کی پیداٴش کہاں
اور تم میرے ثواب سے روٹھ گٴے
میں پوری آنکھ سے جل اٹھی
پھول بیٹے إإ
تم جھوٹ بولتی ہو ماں إ
ماں کب آنکھ ناپتی ہے
کچے رنگوں کی پتنگ نہ اڑایا
کہیں موسم پرواز نہ سیکھ لیں
تم پھر پھول توڑلاٴے
اور اس کا نام ماں رکھا
لیکن اکثر پھول باپ کے گناہ سے کالے پڑے تھے
حیرت نے جنم لیا
تو میں نے خدا کوورق ورق پڑھ لیا إ
واقعی تیری کوٴی ماں نہین
: اور نہ تونے کسی کوجنا
میری بوڑھی دعا مجھے تراشتی
اور میں بچے سنگریزوں سے کھلونے بناتی
کھلونے باعمر ہوٴے اور مجھ سے باتیں کرتے
میں نے نٴی زبان دریافت کرلی
اور ماٴوں سے کہا إ
تم دیواروں کی ماں ہو
: اور میں صدیوں کی ماں ہوں
انکار تیرا ماں بانٹے
ضمیر تیری زبان ہو
چاند چٹکی بجاٴے توتورات سمجھ لے
فرصت سے ٹوٹنے لگو
: تومقدر پہ کوٴی نٴی بات لکھ دینا
میرا رب دکھ سے بھی اعلیٰ ہے
میں ایسا پیڑہوٴی
جس کا تابوت بنا، بن لاشہ
عورت ماں ہوجاٴے
: تو خدااس کا دوست ہوجاتاہے
: ہرسنگِ میل پہ لکھاہے ، کون جانے
قدم کے ساتھ فاصلہ رہتاہے
میں نے خاموشی گناہ کیا اور پیدا ہوگٴی
تم نے خاموشی گناہ کیااور ماں سے جد اہوٴے
: اور میں زنجیر جتنی بیدار ہوگٴی
میراہرلباس چراغ ہی سے جلتاہے
تم تو مجھے ایسے دیکھ رہے ہو
جیسے میں نے انسان کو جنم ہی نہیں دیا
دکھ تیرا ذاٴقہ ہو
تیرا بیج میرے بچے کے دکھ جیساہو
تیرا صبر میرے گناہ جیسا ہو
آگ تیری شرم ہو
جنگل تیری آس ہو
معافی تیرا حکم ہو
خوشی تیری فاقہ ہو
ماں تیری آنکھ ہو
بچہ تیرا صبر ہو
مفلسی تیری کماٴی ہو

(سارا شگفتہ)
’’شاعروں کی ایک پرہجوم محفل تھی۔ ضمیر شمع محفل بنے بیٹھے تھے۔ جب حفیظ جالندھری بولے، ’’ضمیر! یہ تو نے اپنے مجموعہ کلام کا نام ’’مافی الضمیر‘‘ کیوں رکھا۔ اس مجموعہ کا مناسب نام تو ’’بے ضمیر‘‘ تھا‘‘۔ ضمیر فوراً بولے، ’’قبلہ، یہ عنوان بھی میرے ذہن میں آیا تھا مگر پھر میں نے سنا کہ آپ اپنی خود نوشت سوانح عمری لکھ رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے یہ عنوان اس کے لیے رہنے دیا‘‘۔

(میرے ہم سفر _____ احمد ندیم قاسمی)

8 psychological tricks in Urdu which will make your life easy || Top 8 psychology tricks

8 psychological tricks in Urdu which will make your life easy || Top 8 psychology tricks https://youtu.be/PnxGaJCLoQw ...