Monday, 6 April 2015


شامِ غم کچھ اُس نگاہِ ناز کی باتیں کرو
بےخودی بڑھتی چلی ہے، راز کی باتیں کرو
یہ سکوتِ ناز، یہ دل کی رگوں کا ٹُوٹنا
خامشی میں کچھ شکستِ ساز کی باتیں کرو
نکہتِ زلفِ پریشاں، داستانِ شامِ غم
صبح ہونے تک اِسی انداز کی باتیں کرو
عشق رُسوا ہو چلا، بے کیف سا، بے زار سا
آج اُس کی نرگسِ غمّاز کی باتیں کرو
نام بھی لینا ہے جس کا اِک جہانِ رنگ و بُو
دوستو اُس نو بہارِ ناز کی باتیں کرو
ہر رگِ دل وجد میں آتی رہے، دُکھتی رہے
یونہی اُس کے جا و بے جا ناز کی باتیں کرو
جو عدم کی جان ہے، جو ہے پیامِ زندگی
اُس سکوتِ راز، اُس آواز کی باتیں کرو
کس لئے عذرِ تغافُل، کس لئے الزامِ عشق
آج چرخِ تفرقہ پرداز کی باتیں کرو
کُچھ قفس کی تیلیوں سے چھَن رہا ہے نُور سا
کُچھ فضا، کُچھ حسرتِ پرواز کی باتیں کرو
جو حیاتِ جاوداں ہے، جو ہے مرگِ ناگہاں
آج کچھ اُس ناز، اُس انداز کی باتیں کرو
جس کی فُرقت نے پلٹ دی عشق کی کایا فراق
آج اس عیسیٰ نفس دم ساز کی باتیں کرو
"یک طرفہ محبت میں دو بڑے فائدے ہیں - ایک تو یہ کہ اس میں ناکامی کا اندیشہ نہیں- دوسرا یہ کہ اس کا دورانیہ کسی دوسرے کی مرضی پر منحصر نہیں- آپ جتنی دیر اس میں مبتلا رہنا چاہیں، بلا کھٹکے رہ سکتے ہیں- دو طرفہ محبت میں عاشق مزاج لوگوں کو ایک خدشے بلکہ کھلے خطرے کا سامنا ہوتا ہے- ذرا بھی غفلت برتیں تو نکاح کی صورت پیدا ہو جاتی ہے......!!"
(مشتاق احمد یوسفی)

Saturday, 4 April 2015

”ایکسٹسی“
دو سوندھے سوندھے سے جسم جس وقت
ایک مُٹھی میں سو رھے تھے
لبوں کی مدھم طویل سرگوشیوں میں
سانسیں اُلجھ گئی تھیں.
مُندے ھُوئے ساحلوں پہ
جیسے کہیں بہت دُور
ٹھنڈا ساون برس رھا تھا
بس ایک ھی رُوح جاگتی تھی
بتا تو اس وقت مَیں کہاں تھا ؟
بتا تو اس وقت تُو کہاں تھی ؟
”گُلزار“

محبتوں میں اذّیت شناس کتنی تھیں
بچھڑتے وقت وہ آنکھیں اُداس کتنی تھیں
فلک سے جن میں اُترتے ھیں قافلے غم کے
مری طرح وہ شبیں اُس کو راس کتنی تھیں
غلاف جن کی لحد پر چڑھائے جاتے ھیں
وہ ھستیاں بھی کبھی بے لباس کتنی تھیں؟
بچھڑ کے تجھ سے کسی طور دِل بہل نہ سکا
نِشانیاں بھی تری میرے پاس کتنی تھیں
اُتر کے دل میں بھی آنکھیں اُداس لوگوں کی
اسیرِ وھم و رھینِ ھراس کتنی تھیں
وہ صُورتیں جو نکھرتی تھیں میرے اشکوں سے
بچھڑ کے پھر نہ ملیں ، ناسپاس کتنی تھیں
جو اُس کو دیکھتے رھنے میں کٹ گئیں محسن
وہ ساعتیں بھی محیطِ حواس کتنی تھیں ؟
”مُحسن نقوی“

مـــــیں ہــوں مشتاق جــفا مجھ پــے جـفا اور سـہی
تـــم ہو بـــیداد مــیں خوش اس سے سـوا اور سـہی
کـــیوں نـــہ فردوس مـیں دوزخ کـو ملا لیـں یـا رب
سیــر کے واسطـــے تھوڑی ســی فــضا اور سہــی
(مرزا اسداللہ خان غالب)

فیض کا کمال ھی یہی ھے کہ ان کی نظم کا آغاز چاھے کتنا دُکھی یا نا اُمیدی سے بھرا ھو , وھی نظم ایک اُمید دلاتے ھوئے اور ھمیشہ ایک Positive Note پر ختم ھوتی ھے۔
”اِس وقت تو یُوں لگتا هے“
اس وقت تو یوں لگتا هے
اب کچھ بھی نہیں هے
مہتاب نہ سورج
نہ اندھیرا نہ سویرا
آنکھوں کے دریچوں پہ
کسی حسن کی چلمن
اور دل کی پناهوں میں
کسی درد کا ڈیرا
ممکن هے کوئی وہم تھا
ممکن هے سنا هو
گلیوں میں کسی چاپ کا
اک آخری پھیرا
شاخوں میں خیالوں کے
گھنے پیڑ کی شاید
اب آ کے کرے گا
نہ کوئی خواب بسیرا
اک بَیر، نہ اک مہر
نہ اک ربط نہ رشتہ
تیرا کوئی اپنا
نہ پرایا ، کوئی میرا
مانا کہ یہ سنسان گھڑی
سخت کڑی هے
لیکن مرے دل !!
یہ تو فقط اک هی گھڑی هے
همت کرو جینے کو تو
اک عمر پڑی هے
”فیض احمد فیض“
میو هسپتال، لاہور
4، مارچ 82ء

"خواب"
چاندنی نے رنگِ شب جب زرد کر ڈالا۔۔۔۔تومیں
ایک ایسے شہر سے گزرا۔۔۔۔جہاں
صرف دیواریں نمایاں تھیں
چھتیں معدوم تھیں
اور گلیوں میں فقط سائے رواں تھے
جسم غائب تھے
(شاعر: احمد ندیم قاسمی)
محبت ہے ہمیں اک دوسرے سے
یہ آپس میں بتانا پڑ رہا ہے
(شاعرہ: شبنم شکیل)

Saturday, 7 February 2015

ہماری تحریریں آپ کو کڑوی اور کسیلی لگتی ہیں۔ مگر اب تک مٹھاسیں آپ کو پیش کی جاتی رپی ہیں۔ ان سے انسانیت کو کیا فائدہ ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیم کے پتے کڑوے سہی، مگر خون ضرور صاف کرتے ہیں۔
(اقتباس: سعادت حسن منٹو کی کتاب "لزت سنگ" کے افسانے "افسانہ نگار اور جنسی مسائل" سے)
دینا میں جتنی لعنتیں ہیں، بھوک ان کی ماں یے۔۔۔۔۔۔بھوک گداگری سکھاتی یے۔ بھوک جرائم کی ترغیب دیتی یے۔ بھوک عصمت فروشی پر مجبور کرتی یے۔ بھوک انتہا پسندی کا سبق دتیی یے۔۔۔۔۔۔۔اس کا حملہ بہت شدید، اس کا وار بہت بھرپور اور اس کا زخم بہت گہرا ہوتا یے۔۔۔۔۔۔بھوک دیوانے پیدا کرتی یے۔ دیوانگی بھوک پیدا نہیں کرتی۔
(اقتباس: سعادت حسن منٹو کی کتاب "لزت سنگ" کے افسانے "افسانہ نگار اور جنسی مسائل" سے)
زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں۔ اگر آپ اُس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ میں جو بُرائیاں ہیں وہ اس عہد کی برائیاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ دراصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہنگامہ پسند نہیں۔ میں لوگوں کے خیالات و جزبات میں ہیجان پیدا کرنا نہیں چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تہزیب و تمدن کی اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اُسے کپٹرے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ اس لئے کہ یہ کام میرا نہیں درزیوں کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ مجھے سیاہ قلم کہتے ہیں۔ لیکن میں تختئہ سیاہ پر کالی چاک سے نہیں لکھتا سفید چاک استمال کرتا ہوں کہ تختئہ سیاہ کی سیاہی اور بھی زیادہ نمایاں ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرا خاص انداز، میرا خاص طرز ہے جسے فحش نگاری، ترقی پسندی اور خدا معلوم کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ لعنت ہو سعادت حسن منٹو پر۔ کم بخت کو گالی بھی سلیقے سے نہیں دی جاتی۔
(اقتباس: سعادت حسن منٹو کی کتاب "منٹو کے افسانے" کے "پیش لفظ" کے صفحہ "13" سے)

8 psychological tricks in Urdu which will make your life easy || Top 8 psychology tricks

8 psychological tricks in Urdu which will make your life easy || Top 8 psychology tricks https://youtu.be/PnxGaJCLoQw ...